کیا اسلام میں اسٹاک ایکسچنج کا کاروبار کرنا جائز ہے یا ناجائز،یعنی اسٹاک ایکسچنج کے حصص کا خریدنا اور بیچنا؟ برائے کرم تفصیلی جواب سے نوازیں۔
| Pakistan | Question: |
کیا اسلام میں اسٹاک ایکسچنج کا کاروبار کرنا جائز ہے یا ناجائز،یعنی اسٹاک ایکسچنج کے حصص کا خریدنا اور بیچنا؟ برائے کرم تفصیلی جواب سے نوازیں۔ |
| 03 Jun, 2008 | Answer: |
|
فتوی: 185=185/ م اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز (حصص) کی خرید و فروخت چند شرائط کے ساتھ جائز ہے (۱)جس کمپنی کا شیئرز خریدنا ہے اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔ (۲) اس کمپنی کے کچھ اثاثے (فکسڈ ایسٹس) وجود میں آچکے ہوں، رقم صرف نقد کی شکل میں نہ ہو۔ (۳) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ (۴) تقسیم منافع کے وقت، نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپوزٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلانیت ثواب صدقہ کردے۔ (۵) شیئرز کی خرید و فروخت کا مقصد محض آپس کا ڈفرنس برابر کرنا نہ ہو جس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا بلکہ مقصد اس کمپنی کا حصہ دار بننا اور اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔ |
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند |