جس بحریہ کے سربراہ ہر ناشتے پر ایک آبدوز، آرمی کے سربراہ جوہری میزائیل اور وزیر اعظم، فضائیہ کے سربراہ ایف سولہ طیارہ کھا جاتے ہوں اس مسلح افواج کی کارگردگی کا کیا رونا اور کیا ہنسنا۔
جس طرح پچھلے ہفتے کراچی میں پاک بحریہ کے مہران بیس کی شاہ فیصل کالونی نمبر پانچ اور کچی آبادی کے ساتھ بہتے پندرہ فٹ گندے نالے سے دہشتگرد حملہ آوروں نے 'سیسہ پلائی دیوار' پھاند کر شب خون آ کر مارا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ سمندر تسخیر کرنے والی نیوی نہ بلکہ انسداد ملیریا کا محکمہ تھا جو مچھروں کی فوج ظفر موج کے آگے بے بس ہوچلا ہو۔
حالانکہ اس سے کچھ روز قبل مسلح افواج کی ہی فرنچائيز فرنٹئير کور کے جوانوں نے سب مشین گنوں سے جس طرح نہتے مسافر چیچن مردوں اور تین عورتوں جس میں پورے مہینوں کے حمل کی دو خواتین بھی تھی کو جس طرح چنوں کی طرح بھون ڈلا، یا اس سے قبل گمشدہ بلوچوں کی ٹارچر سے مسخ شدہ لاشیں پھینکتی آ رہی ہیں اسے دیکھ کر بس حبیب جالب یاد آتے ہیں:
'سرحدوں کی نہ پاسبانی کی
ہم سے داد لی جوانی کی'
فرض کریں کہ اسامہ بن لادن کی موت کے انتقام کی کارروائی نہیں بلکہ نیوی کے اندر ناشتے پر آبدوز کھاجانے والی بڑی مچھلیوں کے درمیاں پی سی اورئين طیاروں کی کمیشن پر جھگڑا تھا؟ بہرحال ا س بحریہ کی میت بھی سمندر میں ڈوب گئی ہے۔ نیوی نل بٹہ نل نکلی۔
یہ کارساز کے کاروباری لوگ ہیں پارک، شادی ہال ، بیکریاں، پیٹرول پمپ اور ناشتے کے سیریل بیچنے والے جو وزیر اعظم ہاؤس کے آہنی پھاٹک اور دیواریں پھاند کر ملک میں گیٹ کریش انٹری ڈالتے ہیں۔ کھڑاک سے کہتے ہیں 'عزیز ہموطنو اسلام علیکم۔'
وہ وقت تھا جب مٹھی بھر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے لیے ایک فرض شناس ایس ایچ او کافی ہوسکتا تھا لیکن اب تو تین ڈویژن فوج بھی ان کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ ۔